علم غیب

بسم اللہ الرحمٰٰن الرحیم
علم غیب
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد
ایم اے ، پی ۔ ایچ ، ڈی

وعندہ مفاتیح الغیب لا یعلمھا الا ھو ۔ ( انعام 59)
اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی ، انھیں وہی جانتا ہے،

بین الاقوامی سلسلہ اشاعت نمبر 2
ادارہ مسعودیہ 6 6 ای ، 5 ناظم آباد کراچی پاکستان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی و نسلم علٰی رسولہ الکریم

علم ایک عظیم قوّت ہے ،دور جدید میں علم کی اہمیت اور نمایاں ہوکر سامنے آگئی ہے ،قرآن کریم نے انسان کو لکھنے پڑھنے (سور ہ علق 4،5) اور تحصیل علم کی طرف متوجہ کیا (سورہ طہ 114) اور انسان کو وہ راز ہائے سربستہ بتائے کہ اس کا دماغ روشن ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن کریم علم ودانش کا عظیم خزانہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس میں علم اور مشتقات علم کا 800 سے زیادہ مقامات پر ذکر کیا گیا ہے اور کتاب و کتابت کا 600 سے زیادہ مقامات پر ذکر کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے قرآن کریم کی نظر میں علم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،، میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں (ابن عبد البرّ جامع بیان العلم و فضلہ ، ص47) ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے تحصیل علم کی تاکید شدید فرمائی اور علم کی فضیلت کو آشکار فرمایا (ایضاً ص49) ۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے فرمایا کہ فضیلت تو صرف اہل علم کو ہے ( ایضاً س46) خود قرآن کریم میں حضرت طالوت علیہ السلام کو علم ہی کی وجہ سے بنی اسرائیل کا بادشاہ بنایا گیا ( سورہ بقرہ 247) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور علم ہی کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام نے فرشتوں پر فضیلت پائی (سورہ بقرہ 31) ۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبوت و رسالت اور قیادت وبادشاہت کے لئے علم کتنا اہم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

oOo

علم دو قسم کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک وہ جو ہم مدرسوں ،اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں حاصل کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم اسی کو علم سمجھتے ہیں اور اسی پر یقین رکھتے ہیں لیکن ایک علم وہ ہے جو براہ راست پڑھایا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے لئے نہ کسی مدرسے کی ضرورت ،نہ اسکول کی ضرورت ،نہ کالج کی ضرورت ،نہ یونیورسٹی کی ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔یہ ایک پوشیدہ علم ہے جس کو قرآن حکیم نے علم غیب سے تعبیر فرمایا ہے ( سورہ کھف 65) ۔اور اس پر ایمان لانا ہر مسلمان کی نشانی قرار دیا ( سورہ بقرہ 3) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ علم وہ ہے جس کو نہ انسانی عقل پاسکتی ہے اور نہ اس کے ظاہری و باطنی حواس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ علم سارے علوم پر غالب ہے اور تحصیل وکسب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محض اللہ کے فضل و کرم سے بارش کی طرح برستا ہے ، چشمے کی طرح ابلتاہے ۔

oOo

قرآن حکیم نے بہت سی آیات میں ‘‘علم غیب‘‘ کا ذکر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ علم اللہ اور صرف اللہ ہی کے لئے ثابت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً یہ آیات ملاحظہ ہوں :
1: اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی ، انھیں وہی جانتا ہے ۔ ( سورہ انعام 59 ترجمہ مولوی احمد رضا خاں)
2: میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمینوں کی سب چھپی چیزیں ۔ ( سورہ بقرہ 33 ترجمہ ایضاً )
3: تم فرماؤ ، غیب تو اللہ کے لئے ہے ۔ ( سورہ یونس 20ایضاً)
اور حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرمایا کہ آپ بھی اعلان فرمادیجئے ۔
4: تم فرمادو ، تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کےخزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں ۔ ( 1۔سورہ انعام 5 ،ب، سورہ ہود 31)

oOo

ان آیات سے معلوم ہوا کہ غیب اللہ ہی کے لئے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی از خود غیب نہیں جانتا اور نہ ہی بغیر عطائے الہٰی کسی کے پاس اللہ کے خزانے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نےکہیں یہ نہ فرمایا کہ یہ علم غیب ہم کسی کو عطا نہیں فرماتے اور یہ خزانے ہم کسی کو نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی سب سے اہم نکتہ ہے جس پر مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالٰی نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا :
1، غیب کا جاننے والا وہی ہے ، سو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ہاں ، مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو ( سورہ جن 26ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی )
2، اور اللہ تعالٰی ایسے امور غیبیہ پر تم کو مطلع نہیں کرتے لیکن ہاں جس کو خود چاہیں اور وہ اللہ تعالٰی کے پیغمبر ہیں ، اُن کو منتخب فرمالیتے ہیں ۔ (سورہ آل عمران 179ایضاً )

oOo

پھر یہی نہیں کہ صرف یہ بات کہی گئی ہو اور علم غیب عطا نہ کیا گیا ہو ، نہیں نہیں ، اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں کو یہ علم عطا بھی فرمایا جس کا قرآن حکیم میں تفصیل سے ذکر ہے ، مثلاً یہ آیات ملاحظہ فرمائیں :
1، اور علم دے دیا اللہ تعالٰٰی نے آدم کو سب چیزوں کے اسماء کا پھر وہ چیزیں فرشتوں کے رُوبرو کردیں ( سورہ بقرہ 31 ایضاً )
2، حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے فرمایا:
اور جو بھی منظور ہوا ان کو تعلیم فرمایا ( سورہ بقرہ 251 ایضاً )
3، حضرت سلیمان علیہ السلام نےاس علم غیب کا یوں ذکر فرمایا :
اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی کی تعلیم کی گئی ہے اور ہم کو ہر قسم کی چیزیں دی گئی ہیں (سورہ نمل 16 ایضاً )
4، حضرت لوط علیہ السلام کے لئے فرمایا :
اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا فرمایا ( سورہ انبیاء 74 ایضاً )
5، حضرت یعقوب علیہ السلام کے لئے فرمایا :
اور وہ بلاشبہ بڑے عالم تھے بایں وجہ کہ ہم نے ان کو علم دیا تھا لیکن اکثر اس کا علم نہیں رکھتے ( سورہ یوسف 68 ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی)
6، حضرت یعقوب علیہ السلام نے خود بھی اپنے بیٹوں کے سامنے اس عطائے ربّانی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :
کیوں ، میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ( سورہ یوسف 96 ایضاً)
7، حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے فرمایا :
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا ( سورہ یوسف 22 ایضاً)
8، اور حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے فرمایا :
اور جب اپنی بھری جوانی کو پہنچے اور درست ہوگئے ،ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا (سورہ قصص 14 ایضاً)
9، اور حضرت خضر علیہ السلام کے لئے فرمایا :
انھوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جن کو ہم نے اپنی خاص رحمت دی تھی اور ہم نے ان کو اپنے پاس سے خاص طور کا علم سکھایا تھا ( سورہ کھف 65 ایضاً)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ نبیوں کو ‘‘علم غیب ‘‘ عطا فرمایا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان حضرات قدسیہ نے کبھی کبھی اس علم کا اظہار بھی فرمایا جیسا کہ قرآن کریم میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اپنے پیروکاروں سے یہ ارشاد فرما رہے ہیں :
10، اور میں تم کو بتلا دیتا ہوں جو کچھ اپنے گھروں میں کھاتے ہو اور جو رکھ آتے ہو ( سورہ آل عمران 49 ایضاً)
یعنی جس جس نے جو کچھ اپنے گھر میں کھایا اور جو کچھ گھر میں رکھا سب آپ کی نظر میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت یوسف علیہ السلام قید خانے میں قیدیوں کو خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے فرما رہے ہیں :
11، جو کھانا تمھارے پاس آتا ہے جو کہ تم کو کھانے کے لئے ملتا ہے میں اس کے آنے سے پہلے اس کی حقیقت تم کو بتلا دیتا ہوں ، یہ بتلا دینا اس علم کی بدولت ہے جو مجھ کو میرے رب نے تعلیم فرمایا ہے ( سورہ یوسف 37 ترجمہ اردو مولوی اشرف علی تھانوی )
ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ رسولوں کو علم غیب عطا فرمایا ہے ، اس عطائے خاص سے انکار ، قرآن سے انکار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ علم کوئی معمولی علم نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑے اہتمام اور تیاری کے بعد عطا فرمایا جاتا ہے اور جس کو عطا فرمایا جاتا ہے اس کے آگے اور پیچھے فرشتوں کے پہرے لگا دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارشاد فرماتا ہے ۔
سو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ، ہاں ،مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو تو ، اس (پیغمبر) کے آگے اور پیچھے محافظ (فرشتے) بھیج دیتا ہے ۔(سورہ جن26، ایضاً)۔
بے شک جس کو یہ علم عطا کیا گیا اس کو بہت کچھ عطا کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو یکساں ‘‘علم غیب ‘‘ حاصل نہیں بلکہ جس طرح انبیاء و رسل میں درجات (سورہ بقرہ 253) ہیں اس طرح علم غیب بھی درجہ بدرجہ عطا کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن حکیم سے اس کی تصدیق ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور حضرت موسٰٰی علیہ السلام نے وہ علم غیب سیکھنے کی درخواست کی جو اللہ نے اُن کو عطا فرمایا تھا ، حضرت خضر علیہ السلام نے درخواست منظور کی مگر یہ ھدایت فرمائی کہ دیکھتے جانا ، بولنا نہیں ،جب تک میں نہ بولوں ( سورہ کھف 70) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت خضر علیہ السلام جو کچھ کرتے گئے ،حضرت موسٰٰی علیہ السلام نہ سمجھ سکے ،آخر رہا نہ گیا ،پوچھ لیا ،حضرت خضر علیہ السلام نے راز سے پردہ اٹھا دیا مگر پھر حضرت موسٰٰی علیہ السلام کو ساتھ نہ رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ پوری تفصیل قرآن حکیم میں موجود ہے(سورہ کھف 65، 82ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کو یکساں ‘‘علم غیب ‘‘ نہیں دیاگیا ۔

oOo

‘‘علم غیب ‘‘ حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بھی عطا فرمایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ علم غیب ہی آپ کا بڑا معجزہ تھا ، مختلف انبیاء کو مختلف معجزات دئیے گئے مگر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو یہ معجزہ عطا فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو جو علم غیب دیا گیا وہ سب آپ کو دیا گیا اور اس کے سوا جو کچھ دیا وہ سوائے اللہ کے کسی کو نہیں معلوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضور انور صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام کی صفات حسنہ کے جامع تھے اور اُن کے علوم و معارف کے بھی جامع تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضور انور صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم کو جو کچھ دیا گیا اس کے متعلق ارشاد ہے :
اور تمھیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے ۔(سورہ نساء 113)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اب کوئی چیز ایسی نہ رہی جو آپ نہ جانتے ہوں ، اس لئے اس نعمت کو اللہ نے ‘‘فضل عظیم ‘‘ کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضور انور صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم کو جو کچھ پڑھایا ،اللہ نے پڑھایا (سورہ اعلٰی 6) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر استاد ،شاگرد سے یہ بات کہے ‘‘میں نے تم کو پڑھایا ہے تم تو کچھ نہ جانتے تھے ‘‘۔
تو یہ حق ہے ،گستاخی وبے ادبی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اگر کوئی شاگرد ،اپنے استاد سے یہ کہے تم تو کچھ نہ جانتے تھے ،تمھارے استاد نے تم کو پڑھایا ہے ،تو یہ سراسر بے ادبی اور گستاخی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاریخ انسانیت میں ایسا بے ادب شاگرد نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالٰٰی نے حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو پڑھایا ،جو کچھ عطا فرمایا ،اللہ ہی نے عطا فرمایا تو اگر اس نے قرآن کریم میں عطا سے پہلے کی کیفیت کو یوں بیان فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔ ما تدری ما الکتب ولا الایمان ۔ (سورہ شورٰی 52) تو یہ اللہ کی شان کے لائق ہے، ہمیں زیب نہیں دیتا کہ بے ادب و گستاخ شاگرد کی طرح آپ کے حضور وہ بات کہیں جو حق جل مجدہ نے آپ سے فرمائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے شک اللہ نے آپ کو ‘‘علم غیب ‘‘ عطا فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔جو شخص اس فضل الہٰی کا انکار کرتا ہے یا اس کی تخفیف کرتا ہے وہ اللہ کے فضل کا انکار کرتا ہے اور اللہ کے فضل کی تخفیف کرتا ہے جو ایسا کرتا ہے اس کو کون مسلمان کہہ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موحّد کی شان تو یہ ہے کہ وہ اللہ کے ہر ہر حکم کا احترام کرتا ہے ،اس پر خود عمل کرتا ہے اور دوسروں کو عمل کرواتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا دربار ،بڑا دربار ہے ، اُن کے حضور بلند آواز سے بولنے والے کے اعمال بھی ضائع ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُن کی محفل مبارک سے بلا اجازت اٹھنے والے کو دردناک عذاب کی وعید سنائی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ بھی سنئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارشاد ہوتا ہے :
تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم میں ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے ، اللہ تعالٰی ان لوگوں کو جانتا ہے جو آڑ میں ہو کر تم میں کھسک جاتے ہیں ، سو جو لوگ اللہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اُن کو اس سے ڈرنا چاہئے کہ ان پر کوئی آفت آن پڑے یا ان پر کوئی دردناک عذاب نازل ہو جائے ( سورہ نور 63 ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی)
آپ خود اندازہ لگائیں جس محفل مبارک کا یہ ادب ہو اس میں رونق محفل سرکار دو عالم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا کیا ادب ہو گا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنھم اس محفل پاک میں سر جھکائے دم بخود بیٹھے رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بات بات پر کہتے یا رسول اللہ ‌صل اللہ علیہ وسلم !
میرے ماں باپ آپ پر قربان !ہر سوال کا ایک ہی جواب تھا ، اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ جانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

oOo

بے شک حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو ان کے پروردگار نے ‘‘علم غیب ‘‘ عطا فرمایا ۔
اس حقیقت کو تین جہتوں سے سمجھا جا سکتا ہے :-
1) آپ کو براہ راست ‘‘ علم غیب ‘‘ عطا کیا۔
2) آپ کو قرآن عطا فرمایا گیا جو علم غیب کا خزانہ ہے
3)آپ کو شاہد بنا کر بھیجا گیا اور شاہد وہی ہوتا ہے جو واقعہ کے وقت موجود بھی ہو اور دیکھ بھی رہا ہو یعنی اس کو ہر بات کا عین الیقین اور حق الیقین حاصل ہوتا ہے ۔

1 )حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کو پہلی جہت سے دیکھا جائے تو یہ آیات آپ کے ‘‘علم غیب ‘‘ کی تصدیق کرتی ہیں :———
1، یہ باتیں منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں کہ ہم بھیجتے ہیں تیری طرف ( (سورہ ہود 49 ترجمہ اردو مولوی محمود حسن)۔
2، یہ خبریں ہیں غیب کی کہ ہم بھیجتے ہیں تیرے پاس (سورہ یوسف 102 ایضاً)۔
3، اور یہ غیب کی بات بتانے میں بخیل نہیں ( سورہ تکویر 24 ایضاً)

2) حضور انور صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کو دوسری جہت سے دیکھا جائے تو یہ آیات ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں :-
1، ہم نے آپ پر یہ قرآن اتارا ہے جو کہ تمام باتوں کا بیان کرنے والا ہے ۔( سورہ نحل 89 ترجمہ اردو مولوی اشرف علی )
2، (یہ قرآن) کچھ بنائی ہوئی بات نہیں لیکن موافق ہے اس کلام کے جو اس سے پہلے ہے اور بیان ہر چیز کا (سورہ یوسف 111 ترجمہ اردو مولوی محمود حسن )
3، ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا ( سورہ انعام 38 ترجمہ اردو مولوی احمد رضا خان)
4، بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب (سورہ مائدہ 15ایضاً)
5، اور کوئی چیز نہیں جو غائب ہو آسمان اور زمین میں مگر موجود ہے ،کھُلی کتاب میں ( سورہ نمل 75 ترجمہ اردو مولوی محمود حسن )۔
6، اور کوئی دانہ زمین کے اندھیروں اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے ۔ ( سورہ انعام 59 ترجمہ اردو مولوی محمود حسن )
آپ نے ملاحظہ فرمایا ، ان آیات میں پہلے ‘‘کتاب مبین‘‘ قرآن حکیم کا ذکر فرمایا پھر یہ فرمایا کہ اس روشن کتاب میں کیا کیا کچھ ہے ————————-غور فرمائیں ،یہ روشن کتاب جس میں زمین و آسمان کی ہر شے کا بیان ہے جس ذات قدسی پر اُتری ،اُس کے علم و دانش کا کیا عالم ہوگا !
(3)حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ‘‘علم غیب ‘‘ کو تیسری جہت سے دیکھا جائے تو یہ آیات کریمہ ہم کو ایک نئے جہان میں لے جاتی ہیں جہاں ہم حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکتے ہیں ، مگر جو کچھ کہا گیا اُس پر دل وجان سے ایمان لاتے ہیں کہ اگر ایمان نہ لائیں تو کہیں کہ نہ رہیں ، ان آیات پر خوب غور فرمائیں اور علم مصطفٰی صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی وسعت و پہنائی کا اندازہ لگائیں ، اللہ اکبر ! ہم کیا اندازہ لگا سکتے ہیں ،ان کا رب کریم ہی جانے کہ اُس نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو کس قدر ‘‘علم غیب ‘‘ عطا فرمایا ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے :———-
1، ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا کر کے بھیجا ہے (سورہ فتح 8، ترجمہ مولوی اشرف علی )
2، اور آپ کو ان لوگوں پر گواہی دینے کے لئے حاضر لائیں گے (سورہ نسآء 41 ایضاً)
3، بے شک ہم نے تمھارے پاس ایک رسول بھیجا جو تم پر گواہی دے گا (سورہ مزّمل 15 ایضاً)
4، اور جس دن ہم ہر ہر اُمت سے ایک ایک گواہ جو انھیں میں سے ہوگا ان کے مقابلے میں قائم کریں گے اور ان لوگوں کے مقابلے میں آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے (سورہ نحل 89 ایضاً)
ان آیات کریمہ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نہ صرف اپنی اُمت بلکہ دوسرے انبیاء کی اُمّتوں کے اعمال کی بھی گواہی دیں گے اور گواہی وہی دیتا ہے جس کے سامنے کوئی کام یا کوئی بات ہوئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان آیات سے معلوم ہوا کہ حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سب کچھ ملاحظہ فرمارہے ہیں ، وہ ہمارے احوال و اعمال سے بے خبر نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پس منظر میں یہ احادیث کریمہ ملاحظہ فرمائیں :

ایک حدیث پاک میں فرمایا : جس طرح میں آگے دیکھتا ہوں اُسی طرح پیچھے بھی دیکھتا ہوں (مسلم شریف ،ج2،ص116)
2،دوسری حدیث میں آتا ہے کہ مدینہ منورّہ سے مکہ معظّمہ جاتے ہوئے وادئ ارزق میں حضرت موسٰی علیہ السلام کو بلند آواز سے تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھا ،پھر وادئ ہر شٰی میں حضرت یونس علیہ السلام کو اُونی جُبّہ پہنے سُرخ اونٹنی پر سوار دیکھا (ابن ماجہ ،ص20، 208)
3،تیسری حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جنت و دوزخ ملاحظہ فرمارہے ہیں ۔( مسلم شریف ج2ص180)
4،چوتھی حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جنّت و دوزخ میں جانے والے ہر فرد کو نام بنام جانتے ہیں۔ ( مشکواۃ شریف ،کتاب الایمان فی القدر ،الفصل الثانی ،ص19)
5،پانچویں حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ایک شخص نے محفل پاک میں یہ دریافت کیا کہ وہ جنت میں جائے گا یا دوزخ میں تو آپ نے برملا ارشاد فرمایا ، تو دوزخ میں جائے گا (بخاری شریف ج3ص855)
6،چھٹی حدیث پاک میں فرمایا ،میری ساری امّت اپنے سب اعمال نیک و بد کے ساتھ میرے حضور پیش کی گئی( مسلم شریف ج1 ، ص207 اور انباء المصطفٰی ص9 بحوالہ مسند احمد و سنن ابن ماجہ)
7،ساتویں حدیث پاک میں فرمایا ،رات میری سب امّت میرے اس حجرے کے پاس پیش کی گئی ،یہاں تک کہ بے شک اُن کے ہر شخص کو اس سے زیادہ پہچانتا ہوں جیسا تم میں سے کوئی اپنے ساتھی کو پہچانے (انباء المصطفٰے ص9 بحوالہ طبرانی)
قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہوا ۔۔۔۔۔
کیا اس شخص کے پاس علم غیب ہے کہ اُس کو دیکھ رہاہے (سورہ نجم 35 ترجمہ مولوی اشرف علی)
اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ علم غیب اُسی کے پاس ہوتا ہے جو دیکھ بھی رہا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن کریم میں متعدّد مقامات میں حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان دید کو بیان کیا گیا ہے ( سورہ مجادلہ 7، سورہ ابراہیم 19، سورہ بقرہ 243،258، سورہ حج 18، سورہ نور 41، سورہ فیل1 ، ترجمہ مولوی محمود حسن)

سچی بات یہ ہے کہ جس نے اللہ کو دیکھ لیا ، اس کے آگے کوئی چیز چھُپی نہ رہی سب ظاہر ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم خود فرمارہے ہیں !
میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ، اُس نے اپنا دست قدرت میری پُشت پر رکھا کہ میرے سینے میں اُس کی ٹھنڈک محسوس ہوئی ، اُسی وقت ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا ۔ (ترمذی شریف بروایت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ ، مشکواۃ شریف کراچی ص72)

oOo

اب تک تو حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم کی وسعتوں اور آپ کے دیکھنے کی باتیں ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن جو علم غیب آپ کو عطا کیا گیا اور جو کچھ آپ کو دکھایا گیا ، کیا اس نعمت عظمٰی کی خیرات اپنے غلاموں کو بھی آپ نے تقسیم فرمائی ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت سی احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے عطا فرمایا اور خوب عطا فرمایا ، اور کیوں نہ عطا فرماتے جب کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو عطا فرمانے ہی کے لئے بھیجا ہے ۔۔۔۔۔مشہور و محبوب صحابی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں !
1، نبی اکرم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس حال پر چھوڑا کہ ہوا میں کوئی پرندہ پر مارنے والا ایسا نہیں جس کا علم حضور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے سامنے بیان نہ فرمادیا ہو (انباء المصطفٰی ،ص8بحوالہ مسند احمد و طبقات ابن سعد)
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں !
2،رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار ہم میں کھڑے ہوکر جب سے ،قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا سب بیان فرمادیا ،کوئی چیز نہ چھوڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جسے یاد رہا ، یاد رہا ۔۔۔۔۔۔جو بھول گیا ، بھول گیا ( انباء المصطفٰے ص7 بحوالہ بخاری شریف ومسلم شریف ومسند احمد)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ
3،نہیں چھوڑا حضور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے کسی فتنے چلانے والے کو دنیا کے ختم ہونے تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ہم کو اس کا نام ،اس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلے کا نام بتا دیا (مشکواۃ شریف باب الفتن)
4، 17 رمضان المبارک 2ھ ! 624ء میں غزوہٰ بدر پیش آیا ،جہاد شروع ہونے سے قبل میدان جہاد میں اپنا دست مبارک رکھ رکھ کر دشمنان اسلام کے مقتولین کی نشاندہی فرمائی کہ فلاں فلاں شخص اس اس جگہ قتل کیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب جہاد ختم ہوا تو جس شخص کے لئے اپنے دست مبارک سے جس جگہ کی نشاندہی فرمائی تھی ،وہ وہیں پڑا ہوا ملا ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک انچ آگے نہ پیچھے ۔۔۔( مسلم شریف ج2 کتاب الجہاد)
بخاری شریف میں ایک طویل حدیث آتی ہے جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں ۔
5،سورج ڈھلنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے ،پھر ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ،جب سلام پھیر دیا تو آپ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور قیامت کا ذکر فرمایا ،نیز اُن بڑے بڑے امور کا جو اس سے پہلے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر فرمایا ، اگر کوئی مجھ سے کسی چیز کے بارے پوچھنا چاہتا ہے تو پوچھ لے کیوں کہ خدا کی قسم تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھو گے مگر میں تمھیں اس کے متعلق بتا دوں گا ،جب تک کہ میں اس جگہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ لوگ زار و قطار رونے لگے اور رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بار بار فرماتے رہے ، کہ مجھ سے پوچھ لو ! مجھ سے پوچھ لو ! ( بخاری شریف ،کتاب الاعتصام ج3،ص855)
اس حدیث پاک پر یہ آیت کریمہ گواہ ہے !
اور یہ غیب کی بات بتانے میں بخیل نہیں (سورہ تکویر24 ترجمہ اردو مولوی محمود حسن)

یعنی جو پوچھو گے، بتایا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو مانگو گے ، دیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا قسم کھا کر یہ فرمانا کہ جو پوچھو گے بتایا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر بار بار فرمانا ،مجھ سے پوچھ لو ، مجھ سے پوچھ لو ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس حقیقت پر گواہ ہے کہ حضور اکرم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کے فضل و کرم سے ،، غیب ،، حاصل تھا ۔۔۔۔۔۔۔ایک عرب عالم شیخ احمد بن محمد بن الصّدیق الغماری الحسنی نے ایک فاضلانہ کتاب لکھی جس کا عنوان ہے ،، مطابقۃ الاختراعات العصریہ لما اخبر بہ سید البرّیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( مفتی احمد میاں برکاتی نے ،،اسلام اور عصری ایجادات،، کے نام سے اس کا ترجمہ کیا ہے جو 1980ء میں لاہور سے شائع ہوچکا ہے ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصنّف نے اس کتاب میں اُن غیبی خبروں کا جمع کیا ہے جو حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہیں ، پڑھ پڑھ کر حیرت بڑھتی جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ماضی و مستقبل حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آئینہ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کیوں نہ ہوں کہ سرکار خود فرمارہے ہیں !

،، میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں ( بخاری شریف ص848 ، ب مسلم شریف مع فتح الملہم ، کراچی ،ج2 ص116)
خزانے کا مالک وہی ہوتا ہے جس کےپاس کنجیاں ہوتی ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ ،اللہ تعالٰی بے اختیار ہوگیا بلکہ اس سے تو اللہ کا اختیار اور قدرت اور ظاہر ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالٰی نے اپنے کرم سے اپنے حبیب کریم صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو کتنا نوازا ہے !
یہی وہ کنجیاں ہیں جن سے آیات قرآنی کے معانی کے خزانے کھولے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن کو ہم بھی دیکھتے ہیں ۔ہم بھی پڑھتے ہیں ،مگر آیات قرآنی میں نگاہ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جو کچھ دیکھتی ہے ہم نہیں دیکھ سکتے ۔۔۔صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن کریم میں ایک آیت ہے !
اور اُن کے لئے تیار رکھو ،جو قوّت تمہیں بن پڑے ( سورہ انفال 60 ) ۔۔۔۔(یعنی دشمنان اسلام کے لئے )‌
یہاں لفظ قوّت کے معنی میں بظاہر کوئی راز نہیں معلوم ہوتا لیکن جب اس راز سے حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پردہ اٹھاتے ہیں تو انسانی عقل حیران ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لفظ قوّت کی تفسیر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا !
خبردار یہ قوّت ،، رمی ،، ہے !۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خبردار یہ قوّت ،، رمی ،، ہے !۔۔۔۔۔۔۔۔۔خبردار یہ قوّت ،، رمی ،، ہے ( مسلم شریف ج2ص143)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عربی میں ،،رمی ،، کے معنی ،،پھینکنا،، آتے ہیں چنانچہ حج میں جمرات پر جو کنکریاں پھینکی جاتی ہیں اس کو ،،رمی ،، کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اس حدیث پاک میں حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اُن تمام ہتھیاروں کا ذکر فرمایا جو آج ہمارے سامنے ہیں اور قوّت کا توازن اس ملک کے حق میں ہے جس کے پاس یہ ہتھیار ہیں ، خصوصاً خطرناک ایٹم بم ، راکٹ ، میزائیل وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب ہتھیار پھینکے جاتے ہیں ، اور قوّت کا راز بنے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
احادیث کا مطالعہ کریں تو آپ کو غیبی خبروں کا ایک سیلاب امنڈتا نظر آئے گا ۔۔۔۔۔۔

oOo

اوپر جو کچھ عرض کیا گیا اُس کی روشنی میں ہمیں ،،علم غیب ،، کے بارے میں ان حقائق کا علم ہوتا ہے ، ان حقائق کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئیے ۔
1، پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ،،علم غیب ،، ایک حقیقت ہے۔
2،دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ،،علم غیب ،، اللہ ہی کے لئے ہے ۔
3، تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے محبوب کو ،، علم غیب ،، عطا فرماتا ہے ۔
4،چوتھی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ انبیاء علیہم السلام کو ،، علم غیب ،، عطا فرمایا ہے ۔
5،پانچویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو ،، علم غیب ،، عطا فرمایا ہے ۔
6،چھٹی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے یہ ،،علم غیب ،، صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنھم کو بتایا ہے اور انھوں نے ہم کو بتایا ۔
اس وقت دنیائے اسلام ،عالمی سازش کی زد میں ہے ، دشمنان اسلام کا ہدف حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ہے ، یہی وہ مرکز قلب و نظر ہے جس سے زندگی ملتی ہے ، اس سازش کے تحت مسلمانان عالم کو ہر اس سوچ اور ہر اُس عمل سے روکا جارہا ہے جس سے دل و دماغ میں حضور انور صل اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عظمت کا نقش بیٹھتا چلا جائے ۔۔۔۔۔۔۔اس سازش سے آپ خود کو محفوظ رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالٰی اپنے فضل وکرم سے حضور انور صل اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم کو سب کچھ عطا فرمایا ہے ۔ بے شک
لوح بھی تُو ،قلم بھی تُو ، تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے وُجود میں حباب
(اقبال )
احقر محمد مسعود عفی عنہ کراچی
18ربیع الاوّل 1414ھ
6ستمبر 1993ء

This entry was posted in Home, Ilme Ghaib. Bookmark the permalink.

6 Responses to علم غیب

  1. Aslam-o-Alikum
    Mujhe yeh baat buhat passand aai ke jub Sarkar (SAW) nai Allah ko dekh lia tu uss say bar kar kia ghaib ho ga ?.
    Waqai Prof. Sahib nai buhat acha likha aur bilkul sach likha Allah unn ko mazeed istaqamat atta farmai… Ameen

  2. salafi says:

    salam,

    professar sahb nein baghair dailil kay baat kee hai muhtaram. dalil kay sath baat kabli -i- kabool hotee hai. dalil bhee asee jo thoos hoo,

    w salam alikum

  3. Andhay Salafi ..
    Quran Kay Hawalay Nazar Nahy Aaye ?
    Quran Say Barh Kay Konsay Thoos Dalil Hogi ?

  4. AFZAAL AHMAD says:

    PROFESSOR SAHIB HAS WRITTEN THE TRUTH . BECAUSE WE HAVE TO ACCEPT THE GOD GIFTED POWERS GIVEN TO OUR PROPHET.
    Some misguided persons believe that the Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam) is powerless, that he does not possess the power to give benefit or cause loss to anybody.

    The belief of the Ahle Sunnah Wal Jama’at is that Sayyiduna Rasoolullah (sallal laahu alaihi wasallam) has been blessed by Allah Ta’ala with the powers to give benefit or loss to anybody if he wishes.

    The following verses of the Holy Quran prove this. Allah Ta’ala states in the Holy Quran:

    “And if when they do injustice unto their souls, then O Beloved! They should come to you and then beg forgiveness of Allah and the Messenger should intercede for them, then surely, they would find Allah Most Relenting, Merciful.” (Para 5, Ruku 6)

    “And what they felt bad, only this that Allah and His Messenger has enriched them out of His grace;” (Para 10, Ruku 16)

    “And O Beloved! Remember when you did say to him whom Allah bestowed a favour and you have bestowed a favour.” (Para 22, Ruku 2)

    Allah Ta’ala says in the Holy Quran: “And O Beloved, I have sent you not as mercy unto the worlds.” (Part 17 Ruku 7) Commentating on this verse of the Holy Quran, Allama Aaloosi (radi Allahu anhu) has stated, “And the Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam) being mercy unto the worlds is in this context that throughout the entire universe, his control is present through the Blessing of Allah Ta’ala. This is why the Noor of the Prophet (sallal laahu alaihi wasallam) was the first thing to be created and it is in the Ahadith, ‘ O Jaabir! Almighty Allah had first created the Noor of your Nabi (sallal laahu alaihi wasallam)’ and in the next Hadith it is said that, ‘Almighty Allah is the Giver and I am the distributor. The explanation of the Soofia is more than that of mine in this matter.” (Tafseer Roohul Muaani)

    It is mentioned in the Holy Quran that Hazrat ‘Isa (alaihis salaam) made a bird out of clay, blew into it, and then, with the Command of Allah Ta’ala, it began to fly. The Holy Quran also mentions that Hadrat ‘Isa (alaihis salaam) cured the blind, the lepers and brought back the dead back to life with the Command of Allah Ta’ala.

    All these incidents prove that Nabi ‘Isa (alaihis salaam) was able to give benefit to those who sought his assistance. How can one dispute that our Nabi Muhammad Mustapha (sallal laahu alaihi wasallam), who is superior to Nabi ‘Isa (alahis salaam), is not in control of giving benefit or loss to anyone?

    It is also stated in the Holy Quran that through the Barakah of Hazrat Yusuf (alaihis salaam), Hazrat Yaqoob (alaihis salaam) regained his sight. Is the returning of the sight of Hadrat Yaqoob (alaihis salaam) not a benefit and advantage? Verily it is! Thus, if benefit can be gained through the other Ambiya (alaihimus salaam), how then can a Muslim say that the Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam) cannot give us benefit or loss?

    Once, Hazrat Maghir (radi Allahu anhu) committed a grave sin so he went to the Holy Prophet Muhammad (sallal laahu alaihi wasallam) and asked him to purify him. Although the Sahabi-e-Rasool had sinned against Allah Ta’ala, he asked the Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam) to purify and cleanse him because he knew that the Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam) would give benefit to him.

    The Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam) said, “I am the one who distributes and Almighty Allah is the One who gives.” (Bukhari; Umdatul Qari)

    Hazrat Rabia (radi Allahu anhu) said in the court of the Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam): “I ask from you that I may be in Jannah with you.” (Mishkaat; Mirkaat)

    It is obvious from these Ahadith that the Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam) is the one who distributes throughout the universe and he who is a distributor in the entire universe definitely has the power of giving benefit.

    From the above narrations, those who are Muslims will always accept that the Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam) has the power of giving benefit. He will think of him as the one to turn to in the times of need. (Afzaal Ahmad)

  5. SUBHAN ALLAH VERY WELL DONE .OUR HOLY PROPHET KNOWS ILME GAIB
    AND THRE IS NO DOUBT .IF SOME BODY THINKS LIKE THAT SO THERE IS DOUBT IN HIS OWN IMAAN, BELIEFS .HE MUST AFRAID OF ALLAH

  6. aakash says:

    excellent sharing of prof sahib

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s